TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 5417 · A B C

Musnad AhmadHadith 5417

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا جَالِسٌ فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ فَقَالَ لَهُ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ هَا انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنْ الدُّنْيَا

ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ اہل عراق آ کرمجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کر دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات