TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 4851 · A B C

Musnad AhmadHadith 4851

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ قُلْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ نَامَ وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ لَمْ يَنَمْ ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ قُلْتُ رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ قَالَ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ فَسَلَّمَ الْإِمَامُ أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ قَالَ كَانَ الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ قَامَ قُلْتُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ

انس بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سےایک مرتبہ پوچھا کہ کیا میں قرات خلف الامام کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لیے امام کی قرات ہی کافی ہے میں نے پوچھا کہ کیا فجر کی سنتوں میں میں لمبی قرات کر سکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے فجر کی سنتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا تم بڑی موٹی عقل کے آدمی ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں ابھی بات کا آغاز کر رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہوتا تو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لیتے پھر سر رکھ کر لیٹ جاتے اب تم چاہو تو یہ کہہ لو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوجاتے اور چاہو تو یہ کہہ لوکہ نہ سوتے پھر اٹھ کر فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آ رہی ہوتی تھی تو اس میں کتنی اور کون سی طوالت ہو گی۔؟پھر میں نے پوچھا کہ ایک آدمی ہے جس نے اپنا مال فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی وصیت کی ہے کیا اس کا مال حج میں خرچ کیا جا سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کر لو تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہو گا میں نے مزید پوچھا کہ اگر ایک شخص کی امام کے ساتھ ایک رکعت چھوٹ جائے امام سلام پھیر لے تو کیا یہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے اسے قضاء کرسکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو مقتدی فورا کھڑا ہو جائے پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص قرض کے بدلے اپنے مال سے زیادہ وصول کرے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا قیامت کے دن ہردھوکے بازکے کولہوں کے پاس اس کے دھوکے کے بقدر جھنڈا لگا ہو گا ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات