TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 4260 · A B C

Musnad AhmadHadith 4260

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی ممانعت فرمائی ہے بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو ایک معین اندازے سے بیچنا اور یہ کہنا کہ اگر اس سے زیادہ نکلیں تو میری اور اگر کم ہو گئیں تب بھی میری۔ فائدہ ۔ یعنی اگر مبیع کی مقدار پانچ وسق سے کم ہو تو اس میں کمی بیشی اور اندازے کی گنجائش ہے اس سے زیادہ میں نہیں جیسا کہ بعض ائمہ کی رائے ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات