TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 2853 · A B C

Musnad AhmadHadith 2853

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَطِيَّةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ فَقَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ كَيْفَ نَقُولُ قَالَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا

ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت قرآنی "فاذا نقر فی الناقور" کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں عیش وعشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعاء پڑھنی چاہیے؟ فرمایا یہ کہتے رہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل، علی اللہ توکلنا "

-

Permalink

See the full chapter: عبداللہ بن عباس کی مرویات