TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 2823 · A B C

Musnad AhmadHadith 2823

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ لِلشَّيَاطِينِ مَقَاعِدُ فِي السَّمَاءِ فَكَانُوا يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا تَجْرِي وَكَانَتْ الشَّيَاطِينُ لَا تُرْمَى قَالَ فَإِذَا سَمِعُوا الْوَحْيَ نَزَلُوا إِلَى الْأَرْضِ فَزَادُوا فِي الْكَلِمَةِ تِسْعًا فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الشَّيْطَانُ إِذَا قَعَدَ مَقْعَدَهُ جَاءَهُ شِهَابٌ فَلَمْ يُخْطِهِ حَتَّى يُحْرِقَهُ قَالَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ مَا هَذَا إِلَّا مِنْ حَدَثٍ حَدَثَ قَالَ فَبَثَّ جُنُودَهُ قَالَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى إِبْلِيسَ فَأَخْبَرُوهُ قَالَ فَقَالَ هُوَ الَّذِي حَدَثَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گذشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہوجاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہوجاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہوگئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا اور ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھی گذرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آکر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: عبداللہ بن عباس کی مرویات