TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 26163 · A B C

Musnad AhmadHadith 26163

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِزَيْدٍ فَاسْأَلْ نِسَاءَكَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَصَوَاحِبَهَا هَلْ أَمَرَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُنَّ زَيْدٌ فَقُلْنَ نَعَمْ قَدْ أَمَرَنَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الزِّيَارَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَالَ زَيْدٌ يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَنْفِرُ إِنْ شَاءَتْ فَقَالَ الْأَنْصَارُ لَا نُتَابِعُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا وَقَالَ وَاسْأَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ حِضْتُ بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْفِرَ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ الْخَيْبَةُ لَكِ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ

عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثاقب اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہو گیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کر لے اور اسکے فوراً بعد ہی اسے " ایام " شروع ہو جائیں ، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کے متعلق حضرت ام سلیم سے پوچھ لو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں نبی نے ہمیں یہی حکم دیا تھا عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثاقب اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہو گیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کر لے اور اسکے فوراً بعد ہی اسے " ایام " شروع ہو جائیں ، حضرت زید کی رائے یہ تھی کہ جب تک وہ طواف ِ وداع نہ کرلے واپس نہیں جا سکتی ، اور حضرت ابن عباس کی رائے یہ تھی کہ اگر وہ دس دی الحجہ کو طواف کر چکی ہے اور اپنے خاوند کے لئے حلال ہو چکی ہے تو وہ اگر چاہے تو واپس جا سکتی ہے، اور انتظار نہ کرے، انصار کہنے لگے اے ابن عباس ! اگر آپ کسی مسئلے میں زید سے اختلاف کریں گے تو ہم اس میں آپکی پروی نہیں کریں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کے متعلق حضرت ام سلیم سے پوچھ لو ، چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت صفیہ بنت حیی کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر حضرت عائشہ نے فرمایا افسوس! تم ہمیں روکو گی، نبی سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی نے انہیں کوچ کا حکم دیا۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ام سلیم کی حدیثیں