Musnad Ahmad — Hadith 26053
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا وَكَانَتْ تُحَدِّثُهُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَالَتْ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا قَالَ أَجَلْ وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ قَالَتْ فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ حَسِّ ثُمَّ قَالَ ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ حَسِّ وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ حَسِّ
یحنس کہتے ہیں جب حضرت امیر حمزہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے بنو نجار کی خاتون خولہ بنت قیس سے خولہ نبی کی احادیث بیان کرتی تھیں وہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ہمارے یہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے معلوم ہو ا کہ آپ فرماتے ہیں قیامت کے دن آپکا ایک حوض ہوگا جس کی مسافت فلاں علاقے سے فلاں علاقے تک ہو گی؟ نبی نے فرمایا یہ بات صحیح ہے، اور اس سے سیراب ہونے والوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہو گی۔حضرت خولہ مزید کہتی ہیں کہ پھر میں نبی کی خدمت میں ایک ہنڈیا لے کر حاضر ہوئی، جس میں خبزہ یا حریرہ تھا، نبی نے کھانا تناول فرمانے کے لئے ہنڈیا میں ہا تھ ڈالا تو اس کے گرم ہونے کی وجہ سے نبی کی انگلیاں جل گئیں اور نبی کے منہ سے "حس"نکلا، پھر فرمایا اگر ابن آدم کو ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے تب بھی"حس"کہتا ہے اور اگر گرمی کا احساس ہوتا ہے تب بھی "حس" کہتا ہے۔
-