Musnad Ahmad — Hadith 25911
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ فِيهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِجِزْيَةٍ وَكَذَلِكَ قَالَ حَجَّاجٌ بِجِزْيَةٍ وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَلَا مَانِعَ جِزْيَةٍ
حضرت ابوشریح سے مروی ہے کہ جب عمروبن سعید نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے مقابلے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف اپنا لشکر بھیجنے کا ارادہ کیا تو وہ اس کے پاس گئے، اس سے بات کی اور اسے نبی علیہ السلام کا فرمان سنایا، پھر اپنی قوم کی مجلس میں آکر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور پھر عمرو بن سعید کا جواب بیان کرتے ہوئے فرمایا میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں ! فتح مکہ کے موقع پر ہم لوگ نبی علیہ السلام کے ہمراہ تھے فتح مکہ سے اگلے دن بنوغزاعہ نے بنوہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کرکے اسے قتل کردیا، وہ مقتول مشرک تھا، نبی علیہ السلام ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو! اللہ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تھا، اسی دن مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیدیا تھا لہذا وہ قیامت تک حرم ہی رہے گا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کسی آدمی کے لئے اس میں خون ریزی کرنا اور درخت کاٹنا جائز نہیں ہے، یہ مجھ سے پہلے نہ کسی کے لئے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا، اور میرے لئے بھی صرف اس مختصر وقت کے لئے حلال تھا جس کی وجہ یہاں کے لوگوں پر اللہ کا غضب تھا، یاد رکھو کہ اب اس کی حرمت لوٹ کر کل گزشتہ کی طرح ہوچکی ہے، یاد رکھو تم میں سے جو لوگ موجود یں وہ غائبین تک یہ بات پہنچادیں اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی علیہ السلام نے بھی تو مکہ مکرمہ میں قتال کیا تھا تو کہہ دینا کہ اللہ نے نبی علیہ السلام کے لئے اسے حلال کیا تھا تمہارے لئے نہیں کیا اے گروہ خزاعہ! اب قتل سے اپنے ہاتھ اٹھالو کہ بہت ہوچکا ، اس سے پہلے تو تم نے جس شخص کو قتل کردیا ہے، میں اس کی دیت دے دوں گا، لیکن اس جگہ پر میرے کھڑے ہونے کے بعد جو شخص کسی کو قتل کرے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہوگا یا تو قاتل سے قصاص لے لیں یا پھر دیت لے لیں ، اس کے بعد نبی علیہ السلام نے اس آدمی کی دیت ادا کردی جسے بنوخزاعہ نے قتل کردیا تھا یہ حدیث سن کر عمروبن سعید نے حضرت ابوشریح سے کہا بڑے میاں آپ واپس چلے جائیں ہم اس کی حرمت آپ سے زیادہ جانتے ہیں ، یہ حرمت کسی خون ریزی کرنیوالے، اطاعت چھوڑنے والے اور جزیہ روکنے والے کی حفاظت نہیں کرسکتی، میں نے اس سے کہا کہ میں اس موقع پر موجود تھا، تم غائب تھے، اور ہمیں نبی علیہ السلام نے غائبین تک اسے پہنچانے کا حکم دیا تھا ، سو میں نے تم تک یہ حکم پہنچادیا، اب تم جانو اور تمہارا کام جانے۔
-