Musnad Ahmad — Hadith 25811
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكِسْوَةٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ صَغِيرَةٌ فَقَالَ مَنْ تَرَوْنَ أَحَقَّ بِهَذِهِ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ فَأُتِيَ بِهَا فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهَا ثُمَّ قَالَ لَهَا مَرَّتَيْنِ أَبْلِي وَأَخْلِقِي وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَحْمَرَ أَوْ أَصْفَرَ وَيَقُولُ سَنَاهْ سَنَاهْ يَا أُمَّ خَالِدٍ وَسَنَاهْ فِي كَلَامِ الْحَبَشِ الْحَسَنُ
حضرت ام خالد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام کے پاس کہیں سے کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹا ریشمی کپڑا بھی تھا، نبی علیہ السلام نے صحابہ سے پوچھا کہ تمہارے خیال میں اس کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ لوگ خاموش رہے نبی علیہ السلام نے فرمایا ام خالد کو میرے پاس بلا کر لاؤ، انہیں لایا گیا تو نبی علیہ السلام نے وہ کپڑے انہیں پہنا دیئے اور دو مرتبہ ان سے فرمایا پہننا اور پراناکرنا نصیب ہو، پھر نبی علیہ السلام اس کپڑے پر سرخ یا زرد رنگ کے نشانات کو دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے اے ام خالد! کتنا اچھا لگ رہا ہے۔
-