TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25790 · A B C

Musnad AhmadHadith 25790

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذْ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوگئے، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوارچلے آرہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ انہیں بھی ان میں شامل فرمادے۔تھوڑی ہی دیر میں نبی علیہ السلام کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی علیہ السلام مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی علیہ السلام نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کئے جانے کا تذکرہ فرمایا، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے ان میں بھی شامل کردے، نبی علیہ السلام نے فرمایا تم پہلے گروہ میں شامل ہو، چنانچہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ وسفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت اسود بن خلف کی حدیث۔