Musnad Ahmad — Hadith 25640
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ وَيُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ قَالَ يُونُسُ وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام ایک مرتبہ حضرت عباس کی عیادت کے لئے تشریف لائے وہ بیمار تھے اور نبی علیہ السلام کے سامنے موت کی تمنا کرنے لگے، نبی علیہ السلام نے فرمایا اے عباس! اے پیغمبر خدا کے چچا! موت کی تمنا نہ کریں اس لئے کہ اگر آپ نیکو کار ہیں تو آپ کی نیکیوں میں اضافہ ہونا آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ گنہگار ہیں اور آپ کو توبہ کی مہلت دی جا رہی ہو تو یہ بھی آپ کے حق میں بہتر ہے اس لئے موت کی تمنانہ کیا کریں۔
-