Musnad Ahmad — Hadith 25262
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ وَجَاءَ عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تَتَحَرَّكْ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی علیہ السلام اپنے کپڑے سمیٹ کر اپنی رانوں پر ڈال کربیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت صدیق اکبر آئے اور اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دیدی اور خود اسی کیفیت پر بیٹھے رہے ، پھر حضرت عمر پھر حضرت علی اور دیگرصحابہ کرام آتے گئے لیکن نبی علیہ السلام اسی کیفیت پر بیٹھے رہے تھوڑی دیر بعد حضرت عثمان نے آ کر اجازت چاہی نبی علیہ السلام نے انہیں اجازت دی اور اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا کچھ دیرتک وہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر واپس چلے گئے ان کے جانے کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کے پاس ابوبکر عمر علی اور دیگر صحابہ آئے لیکن آپ اسی کیفیت پر بیٹھے رہے اور جب حضرت عثمان آئے تو آپ نے اپنی ٹانگوں کو کپڑے سے ڈھانپ لیا نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔
-