TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25209 · A B C

Musnad AhmadHadith 25209

أَخْبَرنَا أَبُو الْقَاسِمِ هِبَةُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ الْحُصَيْنِ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُذْهَبِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقُطَيْعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنِ الْفِرَاسِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَكَتْ فَقُلْتُ لَهَا اسْتَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ثُمَّ تَبْكِينَ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَضَحِكَتْ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ فَبَكَيْتُ لِذَلِكَ ثُمَّ قَالَ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ سامنے سے چلی آرہی تھیں اور ان کی چال بالکل نبی علیہ السلام کی طرح تھی، نبی علیہ السلام نے انہیں دیکھ کر فرمایا میری بیٹی کو خوش آمدید، پھر نبی علیہ السلام نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھالیا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے، اسی دوران حضرت فاطمہ رونے لگیں ، میں نے ان سے کہا کہ نبی علیہ السلام خصوصیت کے ساتھ صرف تم سے سرگوشی فرما رہے ہیں اور تم پھر بھی رو رہی ہو، نبی علیہ السلام ان کے ساتھ دوبارہ سرگوشی فرمانے لگے اس مرتبہ وہ ہنسنے لگیں ، میں نے کہا کہ جس طرح غم کے اتنا قریب خوشی کو میں نے آج دیکھا ہے اب سے پہلے کبھی نہیں دیکھا، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ نبی علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں نبی علیہ السلام کا راز کسی کے سامنے بیان نہیں کروں گی۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مرویات