TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25161 · A B C

Musnad AhmadHadith 25161

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شِمَاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنْ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث ، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کر لی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، بخدا جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چنانچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے ، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں ، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کر لی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کر لوں، انہوں نے حامی بھر لی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کر لی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کر دیئے ، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہو گئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات