TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25140 · A B C

Musnad AhmadHadith 25140

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا يَذْكُرُ النَّاسُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفَ وَقَدْ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْهَدْيَ وَأَشْرَافٌ مِنْ النَّاسِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَحِضْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ مَعَكُمْ عَامِي هَذَا فِي هَذَا السَّفَرِ قَالَ لَا تَفْعَلِي لَا تَقُولِي ذَلِكَ فَإِنَّكِ تَقْضِينَ كُلَّ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا أَنَّكِ لَا تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَمَضَيْتُ عَلَى حَجَّتِي وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَحَلَّ كُلُّ مَنْ كَانَ لَا هَدْيَ مَعَهُ وَحَلَّ نِسَاؤُهُ بِعُمْرَةٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ كَثِيرٍ فَطُرِحَ فِي بَيْتِي فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي فَاتَتْنِي قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي الْحَجِّ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَحَلَلْنَ بِعُمْرَةٍ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ وَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى حُرْمِهِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا ، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہو گئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہو گئے ہیں ، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کر سکتا ہے، الا یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی ، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات