TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25108 · A B C

Musnad AhmadHadith 25108

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ الْعَجْوَةُ فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ قَالَتْ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّه إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک یا کئی اونٹ خریدے اور اس کا بدلہ ایک وسق ذخیرہ کھجور ( عجوہ) قرار دی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کجھوریں تلاش کیں تو نہیں مل سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے تم سے ایک وسق ذخیرہ کجھور کے عوض اونٹ خریدے ہیں لیکن میرے پاس اس وقت کجھوریں نہیں ہیں، وہ اعرابی کہنے لگا ہائے! میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہنے لگے تجھ پر اللہ کی مار ہو، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دھوکہ دیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار بات کہہ سکتا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اور ہر مرتبہ اس نے یہی کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے ڈانٹا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ وہ بات سمجھ نہیں پا رہا تو اپنے کسی صحابی سے فرمایا خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اگر تمہارے پاس ایک وسق ذخیرہ کجھور ہوں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم تہمیں واپس لوٹا دیں گے، ان شاء اللہ۔ وہ صحابی چلے گئے ، پھر واپس آکر بتایا کہ وہ کہتی ہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کجھوریں موجود ہیں ، آپ کسی آدمی کو بھیج دیجئے جو آکر لے جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور پوری کر کے دے دو، وہ صحابی اس اعرابی کو لے گئے اور اسے پوری پوری کجھوریں دے دیں، پھر اس اعرابی کا گذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگا " جزاک اللہ خیرا " آپ نے پورا پورا ادا کر دیا اور خوب عمدہ ادا کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین بندے وہی پورا کرنے والے اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے والے ہی ہوں گے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات