TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25067 · A B C

Musnad AhmadHadith 25067

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ فَقَالَتْ لِي إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَأَفَاقَ فَقَالَ افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ قُلْتِ لَا أَدْرِي ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ فَقُلْتُ لَكِ أَبِي أَوْ أَبُوكِ قُلْتِ لَا أَدْرِي فَفَتَحْنَا الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ادْنُهْ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ادْنُهْ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ادْنُهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ لَهُ اخْرُجْ قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ أَوْ قَالَتْ اللَّهُمَّ صِدْقٌ

ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں آپ کی قسم دیکھ کر پوچھتی ہوں ، اگر میں غلط کہوں تو آپ میری تصدیق نہ کریں اور صحیح کہوں تو تکذیب نہ کریں، آپ کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوگئی، میں نے آپ سے پوچھا کیا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا؟ آپ نے کہا مجھے کچھ معلوم نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہو گیا اور انہوں نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو، میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے والد آئے ہیں یا آپ کے ؟ آپ نے جواب دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ہم نے دروازہ کھولا تو وہاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرے قریب آجاؤ ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جھک گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ باتیں کیں جو آپ کو معلوم ہیں اور نہ مجھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا میری بات سمجھ گئے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! تین مرتبہ اس طرح سرگوشی اور اس کے بعد یہ سوال جواب ہوئے ، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب تم جا سکتے ہو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا اسی طرح ہے اور یہ بات سچی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات