Musnad Ahmad — Hadith 25046
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ قَالَتْ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى وَإِنَّهُ لَيَقُولُ اكْتُبْ عُثْمَانُ قَالَتْ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ ان کے چچا نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیو نکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو لعنت کرے، اس پر خدا کی لعنت نازل ہو ، بخدا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبریل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے ! عثمان ! لکھو ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں سے ان کا نکاح کیا تھا، اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔
-