Musnad Ahmad — Hadith 24898
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَبِي وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ يَعْنِي نَافِعٌ هَذَا قَالَ كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ أَوْ إِلَى مِصْرَ قَالَ فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَتْ مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ الرَّأْسَ مَالٍ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ
نافع کہتے ہیں کہ میں شام یا مصر میں تجارت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق جانے کی تیاری کر لی لیکن روانگی سے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین ! میں عراق جانے کی تیاری کر چکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم اپنی تجارت کی جگہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ رزق وابستہ ہو تو وہ اسے ترک نہ کرے الا یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہو جائے یا وہ بگڑ جائے ، تاہم میں پھر بھی عراق چلا گیا، واپسی پر ام المومنین کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین ! بخدا مجھے اصل سرمایہ بھی واپس نہیں مل سکا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلی ہی حدیث سنا دی تھی۔
-