TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 24825 · A B C

Musnad AhmadHadith 24825

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ لِي أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ قَالَتْ قُلْتُ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نکلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو گیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات