TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 24657 · A B C

Musnad AhmadHadith 24657

حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ فَقَالَ صَاحِبِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ قَالَتْ وَمَا الْعِرَاكُ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي فَقَالَتْ مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ ثُمَّ قَالَتْ مَا الْعِرَاكُ الْمَحِيضُ قُولُوا مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ

یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھا اور خود اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، پھر میرے ساتھی نے پوچھا کہ اے ام المومنین! " عراک" کے متعلق آپ کیا فرماتی ہیں! انہوں نے فرمایا عراک کیا ہوتا ہے؟ میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روکتے ہوئے فرمایا تم نے اپنے بھائی کو ایذا پہنچائی، پھر فرمایا عراک سے کیا مراد ہے؟ حیض، تو سیدھا سیدھا وہ لفظ بولو جو اللہ نے استعمال کیا ہے، یعنی حیض ، بعض اوقات میں حائضہ ہوتی تھی لیکن پھر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کو بوسہ دے دیا کرتے تھے اور میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پردہ حائل ہوتا تھا۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات