Musnad Ahmad — Hadith 24518
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ جَاءَ عَمَّارٌ وَمَعَهُ الْأَشْتَرُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ قَالَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ لَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ قَالَ بَلَى وَإِنْ كَرِهْتِ قَالَتْ مَنْ هَذَا مَعَكَ قَالَ هَذَا الْأَشْتَرُ قَالَتْ أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِي قَالَ قَدْ أَرَدْتُ قَتْلَهُ وَأَرَادَ قَتْلِي قَالَتْ أَمَا لَوْ قَتَلْتَهُ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُحِلُّ دَمَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا إِحْدَى ثَلَاثَةٍ رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ رَجُلٌ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ
عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ، عمار اور اشتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! انہوں نے فرمایا میں تیری ماں نہیں ہوں، اس نے کہا بخدا آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے ، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔
-