Musnad Ahmad — Hadith 24179
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلَهَا رَجُلٌ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ مِنْ اللَّيْلِ إِذَا قَرَأَ قَالَتْ نَعَمْ رُبَّمَا رَفَعَ وَرُبَّمَا خَفَضَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً قَالَ فَهَلْ كَانَ يُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ رُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الدِّينِ سَعَةً
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک آدمی نے پوچھا یہ بتائیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصے میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے فرمایا کبھی رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں، میں نے اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی، پھر میں نے پوچھا یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہری قرات فرماتے تھے یا سری؟ انہوں نے فرمایا کبھی جہری اور کبھی سری، میں نے پھر اللہ اکبر کہہ کر عرض کیا اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
-