Musnad Ahmad — Hadith 23711
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ قُلْتُ أَنْهَارًا قَالَ لَا بَلْ أَوْدِيَةً ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ
مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں ، انہوں نے فرمایا اچھا واقعی تمہیں معلوم نہیں ہو گا، اہل جہنم کے کانوں کی لو سے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت حائل ہو گی اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی، میں نے عرض کیا "نہریں" فرمایا نہیں بلکہ وادیاں، پھر دوبارہ پو چھا کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا اچھا ، واقعی تمہیں معلوم نہیں ہو گا، مجھے حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے متعلق پو چھا تھا قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان لپیٹے ہوئے اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے، تو یارسول اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم کے پل پر ہوں گے۔
-