TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 23686 · A B C

Musnad AhmadHadith 23686

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا حَتَّى يَكُونَ إِثْمًا فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ انْتُهِكَ مِنْهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةٌ هِيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا

حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الا یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہو تا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم خداوندی کو پامال کیا جا تا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات