TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 2364 · A B C

Musnad AhmadHadith 2364

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ

مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرات کون سی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا حضرت زید بن ثابت کی؟ ہم نے عرض کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا نہیں ، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔

-

Permalink

See the full chapter: عبداللہ بن عباس کی مرویات