TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 23595 · A B C

Musnad AhmadHadith 23595

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ مَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ قُلْتُ وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ جَمَعَهُمْ الطَّرِيقُ مِنْهُمْ الْمُسْتَبْصِرُ وَابْنُ السَّبِيلِ وَالْمَجْبُورُ يَهْلِكُونَ مَهْلِكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى

ام المومنین حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، سوتے سوتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا یارسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ پر حملے کا ارادہ کریں گے، اس ایک آدمی کی وجہ سے جو حرم شریف میں پناہ گزین ہو گا، جب وہ مقام بیداء تک پہنچیں گے تو سب کے سب زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے اور ان سب کے اٹھنے کی جگہ مختلف ہو گی کیونکہ اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا، میں نے عرض کیا کہ یہ کیا بات ہو ئی کہ ان سب کے اٹھنے کی جگہیں مختلف ہوں گی اور اللہ انہیں ان کی نیت کے مطابق اٹھائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دراصل اس لشکر میں کئی لوگ صرف دیکھنے کے لئے کئی مسافر اور کئی زبردستی شامل کئے گئے ہوں گے، یہ سب ایک ہی جگہ پر ہلاک ہو جائیں گے لیکن اپنی نیتوں کے اعتبار سے مختلف جگہوں سے اٹھائے جائیں گے۔

-

Permalink

See the full chapter: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی مرویات