Musnad Ahmad — Hadith 22996
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ وَلَا أَدْرِي هَذَا أَوْ غَيْرَهُ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ اشْتَكَتْ عَائِشَةُ فَطَالَ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ تَنْعَتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ قَالَ هَذِهِ امْرَأَةٌ مَسْحُورَةٌ سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا قَالَتْ نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقَ قَالَ وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً قَالَتْ بِيعُوهَا فِي أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا
عمرہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوگئیں اور ان کی بیماری کا دورانیہ بہت زیادہ لمبا ہوگیا، اسی دوران مدینہ منورہ میں ایک طبیب آیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے اس کے پاس گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کے متعلق اس سے پوچھا، اس نے کہا کہ تم جس عورت کی یہ کیفیت بتا رہے ہو، اس عورت پر تو جادو کیا گیا ہے اور اس پر اسکی باندی نے جادو کروایا ہے، تحقیق پر اس باندی نے اقرار کر لیا کہ ہاں! میں نے آپ پر سحر کر وایا ہے، میں چاہتی تھی کہ آپ فوت ہوں تو میں آزاد ہو سکوں، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس باندی سے کہہ رکھا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو گی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حقیقت سامنے آنے پر فرما یا اس باندی کو عرب میں سب سے طاقتور لوگوں کے ہاتھ بیچ دو اور اسکی قیمت اس جیسی ایک باندی پر خرچ کردو۔
-