TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 21364 · A B C

Musnad AhmadHadith 21364

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَةَ هُبَيْرَةَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا خَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ يُقَالُ لَهَا الْفَتَخُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَعُ يَدَهَا بِعُصَيَّةٍ مَعَهُ يَقُولُ لَهَا يَسُرُّكِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فِي يَدِكِ خَوَاتِيمَ مِنْ نَارٍ فَأَتَتْ فَاطِمَةَ فَشَكَتْ إِلَيْهَا مَا صَنَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَانْطَلَقْتُ أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَلْفَ الْبَابِ وَكَانَ إِذَا اسْتَأْذَنَ قَامَ خَلْفَ الْبَابِ قَالَ فَقَالَتْ لَهَا فَاطِمَةُ انْظُرِي إِلَى هَذِهِ السِّلْسِلَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا إِلَيَّ أَبُو حَسَنٍ قَالَ وَفِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ بِالْعَدْلِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَفِي يَدِكِ سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ ثُمَّ عَذَمَهَا عَذْمًا شَدِيدًا ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَأَمَرَتْ بِالسِّلْسِلَةِ فَبِيعَتْ فَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا عَبْدًا فَأَعْتَقَتْهُ فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنْ النَّارِ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنت ہبیرہ نامی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں جنہیں " فتخ " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی لاٹھی سے اس کے ہاتھ کی انگوٹھیوں کو ہلاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تمہارے ہاتھ میں آگ کی انگوٹھیاں ڈال دے تو؟ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رویے کی شکایت کی ۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ادھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر پہنچ کر دروازے کے پیچھے کھڑے ہوگئے " جوکہ اجازت لیتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا " اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اس خاتون سے فرما رہی تھیں یہ چین دیکھو جو مجھے " ابو حسن" نے ہدیے میں دی ہے ان کے ہاتھ میں سونے کی ایک چین تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں داخل ہو کر فرمایا اے فاطمہ بات انصاف کی ہونی چاہئے تاکہ کل کو لوگ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر انگلی نہ اٹھائیں اس لئے تمہارے ہاتھ میں آگ کی یہ چین کیسی ؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شدت کے ساتھ ندامت کا احساس دلایا اور وہاں بیٹھے بغیر ہی واپس چلے گئے اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ چین فروخت کرنے کا حکم دے دیا چنانچہ اسے بیچ دیا گیا جس کی قیمت سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک غلام خریدا اور اسے آزاد کر دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو خوشی سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا اللہ کا شکر کہ اس نے فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو آگ سے بچا لیا۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی مرویات