TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 2099 · A B C

Musnad AhmadHadith 2099

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔

-

Permalink

See the full chapter: عبداللہ بن عباس کی مرویات