TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18464 · A B C

Musnad AhmadHadith 18464

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ مَعَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ كَبُرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطِيبًا فِينَا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ إِنَّ نِسَاءَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ

یزید بن حیان تمیمی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حصین بن سبرہ اور عمربن مسلم کے ساتھ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب ہم لوگ بیٹھ چکے تو حصین نے عرض کیا کہ اے زید! آپ کو تو خیر کثیر ملی ہے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہے ان کی احادیث سنی ہیں ان کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے اور ان کی معیت میں نماز پڑھی ہے لہٰذا آپ کو تو خیر کثیر نصیب ہوگئی آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہو؟انہوں نے فرمایا بھتیجے ! میں بوڑھاہوچکا، میرا زمانہ پراناہوچکا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو باتیں محفوظ رکھتا تھا ، ان میں سے کچھ بھول بھی چکا، لہٰذا میں اپنے طور پر اگر کوئی حدیث بیان کردیا کروں تو اسے قبول کرلیا کرو ورنہ مجھے اس پر مجبور نہ کیا کرو پھر فرمایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک چشمے کے قریب جسے " خم " کہا جاتا ہے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرکے کچھ وعظ ونصیحت کی ، پھر، امابعد " کہہ کر فرمایا لوگو! میں بھی ایک انسان ہی ہوں ہوسکتا ہے کہ جلدہی میرے رب کا قاصد مجھے بلانے کے لئے آپہنچے اور میں اس کی پکار پر لبیک کہہ دوں ، یاد رکھو! میں تمہارے درمیان دومضبوط چھوڑ کر جارہاہوں پہلی چیز توکتاب اللہ ہے جس میں ہدایت بھی ہے اور نور بھی ، لہٰذاکتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامو، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی ترغیب دی اور توجہ دلائی اور فرمایا دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور تین مرتبہ فرمایا میں اپنے اہل بیت کے حقوق کے متعلق تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں ۔حصین نے پوچھا کہاے زید! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے کون مراد ہیں ؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت میں داخل نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں لیکن یہاں مرادوہ لوگ ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدصدقہ حرام ہو، حصین نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا آل عقیل ، آل علی ، آل جعفر اور آل عباس ، حصین نے پوچھا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں !

-

Permalink

See the full chapter: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی مرویات