TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18385 · A B C

Musnad AhmadHadith 18385

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ وَقَالَ جَرِيرٌ لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي ثُمَّ دَخَلْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي يَا عَبْدَ اللَّهِ ذَكَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ ذَكَرَكَ آنِفًا بِأَحْسَنِ ذِكْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ وَقَالَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ إِلَّا أَنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ قَالَ جَرِيرٌ فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَبْلَانِي و قَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ نَعَمْ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي ثُمَّ حَلَلْتُ عَيْبَتِي ثُمَّ لَبِسْتُ حُلَّتِي قَالَ فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَسَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ذکر کیاہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں ! ابھی ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا عمدہ انداز میں ذکر کیاہے اور خطبہ دیتے ہوئے درمیان میں فرمایا ہے کہ ابھی تمہارے پاس اس دروازے یاروشندان سے یمن کا ایک بہترین آدمی آئے گا اور اس کے چہرے پر کسی فرشتے کے ہاتھ پھیرنے کا اثر ہوگا اس پر میں نے اللہ کی اس نعمت کا شکرادا کیا ۔حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا اپنے تہبند کو اتارا اور حلہ زیب تن کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دے رہے تھے لوگ مجھے اپنی آنکھوں کے حلقوں سے دیکھنے لگے میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ذکر کیاہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مرویات