TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18346 · A B C

Musnad AhmadHadith 18346

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قَالَ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا مَنْ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَذَا الْعَالِي الصَّوْتَ فَقِيلَ هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ إِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِثْلَهُ

حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک 'آدمی آکر صف میں شامل ہوگیا اور کہنے لگا " اللہ اکبر کبیرا، وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا " اس پر مسلمان سر اٹھانے اور اس شخص کو ناپسند کرنے لگے اور دل میں سوچنے لگے کہ یہ کون آدمی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کررہا ہے ؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ بلند آواز والا کون ہے ؟ بتایا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں نے دیکھا کہ تمہارا کلام آسمان پر چڑھ گیا یہاں تک کہ ایک دروازہ کھل گیا اور وہ اس میں داخل ہوگیا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی مرویات ۔