TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18161 · A B C

Musnad AhmadHadith 18161

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوَ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَوَقَالَ هَذَا قَالُوا نَعَمْ قَالَتْ هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ وَيَقُولَانِ لَهَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنْ الْهَجْرِ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ رَجُلًا مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ وَكَانَ أَخًا لِعَائِشَةَ لِأُمِّهَا أُمِّ رُومَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَاسْتَعَانَ عَلَيْهَا بِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَاسْتَأْذَنَا عَلَيْهَا فَأَذِنَتْ لَهُمَا فَكَلَّمَاهَا وَنَاشَدَاهَا اللَّهَ وَالْقَرَابَةَ وَقَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے کوئی بیع کی یا کسی کو کوئی بخشش دی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (جو ان کے بھانجے تھے ) نے کہا کہ بخدا! عائشہ رضی اللہ عنہا کو رکنا پڑے گا ورنہ میں انہیں اب کچھ نہیں دوں گا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو فرمایا کیا اس نے یہ بات کہی ہے ؟ لوگوں نے بتایاجی ہاں ! فرمایا میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ آج کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا" سے سفارش کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔طفیل بن حارث " جوکہ ازدشنوئہ کے ایک فرد تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماں شریک بھائی بھائی تھے " سے مروی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنو زہرہ سے تھا" سے سفارش کروائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لئے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ کی مرویات