TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 1513 · A B C

Musnad AhmadHadith 1513

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ عَمِّهِ جَرِيرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَثُلُثَيْهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَنِصْفَهُ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ أَحَدُكُمْ يَدَعُ أَهْلَهُ بِخَيْرٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَدَعَهُمْ عَالَةً عَلَى أَيْدِي النَّاسِ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں اپنے سارے مال کو راہ خدا میں دینے کی وصیت کر سکتا ہوں؟ فرمایا نہیں، انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے بارے پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرما دیا، انہوں نے نصف کے متعلق پوچھا تب بھی منع فرما دیا، پھر جب ایک تہائی مال کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ایک تہائی مال کی وصیت کر سکتے ہو اور یہ ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، یاد رکھو! کہ تم اپنے اہل خانہ کو اچھی حالت میں چھوڑ کر جاؤ، یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ تم انہیں اس حال میں چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائیں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ