TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 14574 · A B C

Musnad AhmadHadith 14574

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف وعلیکم کہا حضرت عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے سنابھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہوجائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہوگی۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جابر انصاری کی مرویات۔