Musnad Ahmad — Hadith 13739
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ الْعَمَلُ أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ فَقَالَ بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا قَالَ اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سراقہ بن مالک آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ عمل کس مقصد کے لیے ہے کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو گئے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا ہے یا پھر ہم خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا ہے انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائد؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لیے اس عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
-