TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 13623 · A B C

Musnad AhmadHadith 13623

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ نَهَارًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ هُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ بْنُ عَقِيلٍ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَقِيلٍ وَكَانَ عَسِرًا لَا يُوصَلُ إِلَيْهِ فَأَقَمْتُ عَلَى بَابِهِ بِالْيَمَنِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ وَكَانَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ فَلَمْ أَقْدِرْ أَنْ أَسْمَعَهَا مِنْ عُسْرِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ لِأَنَّهُ كَانَ حَيًّا أَفَلَمْ أَسْمَعْهَا مِنْ أَحَدٍ آخَرَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید انصاری صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جنت البقیع میں تھے آپ نے فرمایا تم اسے ڈھک کر کیوں نہ لائے اگرچہ لکڑی ہی سے ڈھک لیتے۔امام احمد فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ابراہیم بن عقیل کے پاس گیا وہ مقروض یا تنگدست تھے جس کی بناء پر ان تک پہنچ حاصل نہ ہوتی تھی میں یمن میں ان کے گھر کے دروازے پر ایک یا دو دن تک کھڑا رہا کہیں جا کر ان سے مل سکا لیکن انہوں نے مجھے صرف دو حدیثیں سنائیں حالانکہ انکے پاس وہب کے حوالے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بہت سی حدیثیں تھیں لیکن اس مجبوری کی وجہ سے میں ان کی زیادہ حدیثیں نہ سن سکا۔ یہ حدیثیں ہم سے اسماعیل بن عبدالکریم نے بھی بیان نہیں کی تھیں کیونکہ وہ زندہ تھے اور میں نے کسی دوسرے آدمی سے وہ حدیثیں نہیں سنیں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جابر انصاری کی مرویات۔