TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 11157 · A B C

Musnad AhmadHadith 11157

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطَّرِيقِ وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَلَى الصُّعُدَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا قَالَ فَأَدُّوا حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّهَا قَالَ رُدُّوا السَّلَامَ وَغُضُّوا الْبَصَرَ وَأَرْشِدُوا السَّائِلَ وَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے گریز کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا، اس طرح ہم ایک دوسرے سے گپ شپ کر لیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ بیٹھنے سے گریز نہیں کرسکتے تو پھر راستے کا حق ادا کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! راستے کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نگاہیں جھکا کر رکھنا، ایذاء رسانی سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات