TrueHadith

Mishkat Sharif, Hadith #1941001 · Explanation of Anger and Arrogance

Mishkat SharifHadith (internal ref #1941001)

وعن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحياء لا يأتي إلا بخير . وفي رواية الحياء خير كله متفق عليه

" اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا حیا نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی بات پیدا نہیں کرتا ایک اور روایت میں یہ ہے کہ حیا کی تمام صورتیں بہتر ہیں ۔ تشریح یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بسا اوقات حیا بعض حقوق کی ادائیگی جیسے امربالمعروف میں مخل ہوتی ہے تو اس اعتبار سے حیا کی تمام صورتیں کو بہتر قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جو حیاء اظہار حقیقت اور حق کی ادائیگی سے باز رکھے اس کو حیا کہا جاتا ہی نہیں ہے بلکہ اس کو عجز اور بزدلی کہیں گے جو ایک طرح کی خرابی اور نقصان ہے اور اگر اس کو حیا کہا بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ مجازا کہا جا سکتا ہے کیونکہ شریعت کی نظر میں حقیقی حیا وہی ہے کہ جو برائی کو ترک کرنے کا باعث بنے علاوہ ازیں یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ حیا کے زیادہ صحیح معنی نفس کا برائی سے رک جانا خواہ وہ برائی طبعی ہو یا شرعی۔ اور شریعت میں جس حیا کو بہتر اور قابل تعریف کہا گیا ہے اس کی صحیح پہچان یہ ہے کہ نفس اس چیز کو اختیار کرنے سے باز رہے جس کو شریعت نے برائی قرار دیا ہے خواہ وہ حرام ہو یا مکروہ یا ترک اولی لہذا مذکورہ بالا اشکال کا زیادہ واضح جواب یہ ہے کہ یہ کلیہ حیاء خیر کلہ ، حیا کی ان صورتوں کے ساتھ خاص ہے جو حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق ہوں ۔

-

Permalink

See the full chapter: حیا کی فضیلت