Mishkat Sharif — Hadith (internal ref #1940078)
وعن العباس رضي الله عنه قال : يا رسول الله إنا نريد أن نكنس زمزم وإن فيها من هذه الجنان يعني الحيات الصغار فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتلهن . رواه أبو داود
" اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ( ایک دن ) عرض کیا کہ " یا رسول اللہ ! ہم زمزم کے کنوئیں کی صفائی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں سانپ یعنی چھوٹے سانپ ہیں ؟ " چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا ۔ " ( ابوداؤد ) تشریح اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے چھوٹے سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا ، لیکن آگے جو حدیث آ رہی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک قسم کے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر چاہ زمزم کو صاف کرنا ان سب سانپوں کو مار ڈالنے کے بغیر ممکن نہیں تھا ، جب کہ دوسری صورتوں میں ان میں سے بعض قسم کے سانپوں کا استثناء ممکن ہے ۔
-