TrueHadith

Mishkat Sharif, Hadith #1920730 · Differences in Qira’at (Recitations) and Dialects and Compilation of the Qur’an

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920730)

وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : سمعت رجلا قرأ وسمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقرأ خلافها فجئت به النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فعرفت في وجهه الكراهية فقال : " كلاكما محسن فلا تختلفوا فإن من كان قبلكم اختلفوا فهلكوا " . رواه البخاري

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ کی قرات اس شخص کی قرات سے مختلف تھی چنانچہ میں اس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صورت حال بیان کی (کہ اس شخص کی قرات آپ کی قرات سے مختلف ہے) پھر میں نے محسوس کیا کہ (میرے جھگڑے اور اختلاف کی وجہ سے) آپ کے چہرہ اقدس پر ناگواری کے آثار نمایاں ہیں بہر کیف آپ نے فرمایا تم دونوں صحیح اور اچھا پڑھتے ہو (دیکھو) آپس میں اختلاف نہ کرو کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (یعنی پہلی امتوں کے لوگ) وہ آپس کے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے یعنی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو جھٹلایا کرتے تھے۔ (بخاری) تشریح یہاں اختلاف سے مراد قرآن کے ان وجوہ میں سے کسی ایک وجہ کا انکار ہے کہ جن کے مطابق قرآن کریم نازل کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ قرآن کریم کی جتنی بھی قراتیں منقول اور رائج ہیں وہ سب برحق ہیں ان میں سے کسی ایک قرات کا بھی انکار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی ایک قرات کا بھی انکار کیا تو گویا اس نے قرآن کریم ہی کا انکار کیا اس موقع پر یہ تفصیل بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بعض قرآتیں تو متواتر ہیں اور بعض آحاد متواتر وہ سات قرآتیں ہیں جو پڑھی جاتی ہیں۔

-

Permalink

See the full chapter: ہر قرات صحیح ہے