TrueHadith

Mishkat Sharif, Hadith #1920536 · Fasting While Traveling

Mishkat SharifHadith (internal ref #1920536)

عن أنس بن مالك الكعبي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن الله وضع عن المسافر شطر الصلاة والصوم عن المسافر وعن المرضع والحبلى " . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه

حضرت انس بن مالک کعبی رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز موقوف کر دی ہے اسی طرح مسافر دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کے لیے روزہ معاف کر دیا ہے (ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ) تشریح آدھی نماز موقوف کر دی ہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسافر کے لیے بھی پہلے چار رکعت نماز فرض تھی پھر بعد میں دو رکعت رہ گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے ابتداء ہی سے آدھی نماز فرض فرمائی ہے کہ وہ چار رکعت والی نماز دو رکعت پڑھے اور دو رکعت کی قضا واجب نہیں ہے اسی طرح روزہ کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ حالت سفر میں روزہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ مگر سفر پورا ہونے کے بعد مسافر جب مقیم ہو جائے گا تو اس روزہ کی قضا اس پر ضروری ہو گی۔ دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کے بارہ میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ ان کے لیے بھی جائز ہے کہ اگر روزہ کی وجہ سے بچہ یا خود ان کو تکلیف و نقصان پہنچنے کا گمان غالب ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں لیکن عذر ختم ہو جانے کے بعد ان پر بھی قضاء واجب ہو گی فدیہ لازم نہیں ہو گا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے لیکن حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے مسلک کے مطابق ان پر فدیہ بھی واجب ہے۔ اگر سفر میں آسانی اور آرام ہو تو روزہ رکھ لینا مستحب ہے حضرت سلمہ بن محیق رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے منزل تک آسانی اور آرام کے ساتھ پہنچا دے (یعنی اس کا سفر بامشقت نہ ہو بلکہ پر سکون اور پر راحت ہو) تو اسے چاہئے کہ جہاں بھی رمضان آئے روزہ رکھ لے۔ (ابو داؤد) تشریح یہ حکم استحباب اور فضیلت کے طور پر ہے ورنہ تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر مسئلہ یہی ہے کہ حالت سفر میں روزہ نہ رکھنا جائز ہے خواہ سفر کتنا ہی پر سکون اور پر راحت کیوں نہ ہو ویسے بھی یہ حدیث ضعیف ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حالت سفر میں روزہ کی معافی