TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 3929 · Explanation of Hadith Defects and Narrators

Jami' TirmidhiHadith 3929

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي عِصْمَةَ عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ عَنْ عِکْرِمَةَ أَنَّ نَفَرًا قَدِمُوا عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ بِکِتَابٍ مِنْ کُتُبِهِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ فَيُقَدِّمُ وَيُؤَخِّرُ فَقَالَ إِنِّي بَلِهْتُ لِهَذِهِ الْمُصِيبَةِ فَاقْرَئُوا عَلَيَّ فَإِنَّ إِقْرَارِي بِهِ کَقِرَائَتِي عَلَيْکُمْ

سوید بن نصر، علی بن حسین بن واقد، ابوعصمہ، یزید بحوی، عکرمہ، ہم سے روایت کی کہ سوید بن نصر نے ان سے علی بن حسین بن واقد نے وہ ابوعاصمہ سے وہ یزید نحوی سے اور وہ عکرمہ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل طائف میں کچھ لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کتابوں میں سے ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے تو ابن عباس نے ان میں سے پڑھنا شروع کیا۔ چنانچہ وہ اس میں سے تقدیم و تاخیر کرنے لگے۔ پھر فرمایا میں مصیبت سے تنگ آگیا ہوں تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو کیونکہ تمہارے پڑھنے پر میرا اقرار (تصدیق) اسی طرح ہے جیسے میں نے پڑھ کر سنایا۔

-

Permalink

See the full chapter: حدیث کی علتوں اور راویوں کی جرح اور تعدیل کے بارے میں