TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 3031 · Statement on the Interpretation of the Quran

Jami' TirmidhiHadith 3031

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمْ الْبُشْرَی فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُکَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ فَهِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَی لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ وَفِي الْبَاب عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ

ابن ابی عمر، سفیان، ابن منکدر، عطاء بن یسار، ایک مصری شخص سے منقول ہے کہ انہوں نے ابودرداءرضی اللہ عنہ سے اس آیت (لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ) 10۔یونس : 64) کی تفسیر پوچھی (ان کے لئے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے) انہوں نے فرمایا کہ جب سے میں نے اس کی تفسیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھی ہے مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں نہیں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے تم پہلے شخص ہو جس نے اس کی تفسیر پوچھی ہے۔ اس بشارت سے مراد مومن کا نیک خواب ہے جو وہ دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ عبدالعزیز سے وہ ابوصالح سمان سے وہ عطاء بن یسار سے وہ ایک مصری شخص سے اور وہ ابودرداءرضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔ احمد بن عبدہ ضبی اسے حماد بن زید سے وہ عاصم سے وہ ابوصالح سے وہ ابودرداءرضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔ اس سند میں عطاء بن یسار سے روایت نہیں۔ اس باب میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

It is reported that an Egyptian asked Sayyidina Abu Darda (RA) to explain this verse: "For them there is the good news in the worldly life and in the Hereafter." (10: 64) He said, “No one else had asked me about it since I asked Allah’s Messenger (SAW) about it and he told me that no one had asked him apart from me since it was revealed. It is a good dream of a Muslim - or that which he is shown.” [Ahmed 27626]

Permalink

See the full chapter: باب تفسیر سورت یونس