TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 2847 · Statement on the Virtues of the Quran.

Jami' TirmidhiHadith 2847

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَائَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ فَقَالَتْ مَا لَکُمْ وَصَلَاتَهُ کَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی حَتَّی يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَائَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَائَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَقَدْ رَوَی ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَطِّعُ قِرَائَتَهُ وَحَدِيثُ لَيْثٍ أَصَحُّ

قتیبہ ، لیث، عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکة، یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں قرات اور آپ کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا نسبت؟ آپ کی عادت تھی جتنی دیر (رات کو) سوتے اتنی دیر اٹھ کر نماز پڑھتے پھر جتنی دیر نماز پڑھ ہوتی اتنی دیر سو جاتے یہاں تک کہ اسی طرح صبح ہو جاتی۔ پھر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ آپ کی قرات کی کیفیت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تو ہر حرف جدا جدا ہوتا۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں وہ ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں وہ یعلی اور وہ ام سلمہ سے۔ پھر ابن جریج بھی حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات میں ہر حرف الگ الگ معلوم ہوتا تھا اور لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔

Ya’la ibn Mamlak reported that someone asked Sayyidah Umm Salamah (RA), wife of the Prophet (SAW) about the recital of the Prophet (SAW) and his salah. She said, “What have you in relation to his salah? He used to pray (salah) for as long as he had slept and then he would sleep for as long as he had engaged in salah till it was morning.” She then described his recital, “When he recited, each letter was distinct.” [Abu Dawud 1466, Nisai 1021]

Permalink

See the full chapter: باب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرائت کے متعلق