TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 1822 · Discussion on Goodness and Maintaining Kinship Ties

Jami' TirmidhiHadith 1822

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ لِيَ امْرَأَةً وَإِنَّ أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوْ احْفَظْهُ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ إِنَّ أُمِّي وَرُبَّمَا قَالَ أَبِي وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ

ابن ابی عمر، سفیان، عطاء بن سائب، عبدالرحمن سلمی، حضرت ابودرداء سے روایت ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں مجھے اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا باپ جنت کا درمیانہ دروازہ ہے لہذا اب تیری مرضی ہے اسے ضائع کرے یا محفوظ رکھے۔ سفیان کبھی والدہ کا ذکر کرتے ہیں کبھی والد کا ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور عبدالرحمن سلمی کا نام عبداللہ بن حبیب ہے۔

Sayyidina Abu Darda (RA) reported that a man came to him and said, “I have a wife and my mother command’s him to divorce her.’ He said, “I heard Allah’s Messenger say, ‘The father is the central door of the doors of paradise. So, if you like demolish this door or protect it.’” Sufyan sometimes said, ‘My mother’ and at other times, ‘my father.’ [Ahmed 21776]

Permalink

See the full chapter: والدین کی رضامندی کی فضیلت