TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 1649 · Statement on Clothing

Jami' TirmidhiHadith 1649

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَال سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَاتَتْ شَاةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِهَا أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ وَفِي الْبَاب عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ وَمَيْمُونَةَ وَعَائِشَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِيَ عَنْهُ عَنْ سَوْدَةَ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يُصَحِّحُ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ وَقَالَ احْتَمَلَ أَنْ يَکُونَ رَوَی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَکْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَکِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

قتیبہ، لیث، یزید بن ابوحبیب، عطاء بن ابورباح، حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بکری مر گئی رسول اللہ نے اس کے مالکوں سے فرمایا تم اس کا چمڑا اتار کر دباغت کیوں نہیں دیتے تاکہ اس سے نفع حاصل کرو اس باب میں حضرت سلمہ بن محیق، میمونہ، اور عائشہ سے بھی احادیث منقول ہیں۔ حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے اور ابن عباس سے کئی سندوں سے مرفوعا نقل ہیں۔ حضرت ابن عباس سے بواسطہ میمونہ اور سودہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے میں نے امام بخاری سے سنا وہ حضرت ابن عباس کی روایت بلاواسطہ اور بواسطہ حضرت میمونہ دونوں کو صحیح قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے حضرت ابن عباس نے بواسطہ میمونہ روایت کیا ہو اور ہو سکتا ہے کہ بلاواسطہ روایت کیا ہو اکثر اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے سفیان ثوری ابن مبارک، شافعی، اور احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when a sheep died, (a natural death) the Prophet I said to its owners, “Why did you not remove its skin. You could have tanned it and benefitted from it.”

Permalink

See the full chapter: دباغت کے بعد مردار جانور کی کھال