TrueHadith

وصی کے لیے کیا جائز ہے اور کیا جائز نہیں ہے۔

Sunan DarimiHadith 3072

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِيمَا أُوصِيَ إِلَيْهِ بِهِ

ابراہیم فرماتے ہیں وصی امین ہوتا ہے اس چیز کے بارے میں جس کی اس کو وصیت کی گئی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3073

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ أَمْرُ الْوَصِيِّ جَائِزٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي الِابْتِيَاعِ وَإِذَا بَاعَ بَيْعًا لَمْ يُقِلْ وَهُوَ رَأْيُ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ

مکحول فرماتے ہیں گھر کے علاوہ ہر معاملے میں وصی کا فیصلہ درست ہے جب وہ کسی چیز کو فروخت کردے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3074

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ الْوَصِيُّ أَمِينٌ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي الْعِتْقِ فَإِنَّ عَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَ الْوَلَاءَ

یحیی بن حمزہ کی بھی یہی رائے ہے یحیی بن ابوکثیر فرماتے ہیں وصی شخص ہر معاملے میں امین ہوتا ہے البتہ آزاد کرنے کے معاملے میں نہیں ہوتا اس پر لازم ہے کہ وہ ولاء کو قائم رکھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3075

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي مَالِ الْيَتِيمِ يَعْمَلُ بِهِ الْوَصِيُّ إِذَا أَوْصَى إِلَى الرَّجُلِ

یتیم کے مال کے بارے میں ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں وصی شخص اس کے لیے کام کروائے گا جبکہ کسی شخص نے اس کے بارے میں وصیت کی ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3076

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ وَصِيُّ الْيَتِيمِ يَأْخُذُ لَهُ بِالشُّفْعَةِ وَالْغَائِبُ عَلَى شُفْعَتِهِ

حسن فرماتے ہیں یتیم کا مال وصی اس کیطرف سے شفعہ وصول کرسکتا ہے جبکہ غیر موجود شخص کے شفعہ کا حق برقرار رہتا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3077

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعِنْدَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ وَأَبُو قِلَابَةَ إِذْ دَخَلَ غُلَامٌ فَقَالَ أَرْضُنَا بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا بَاعَكُمْ الْوَصِيُّ وَنَحْنُ أَطْفَالٌ فَالْتَفَتَ إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ فَقَالَ مَا تَقُولُ فَأَضْجَعَ فِي الْقَوْلِ فَالْتَفَتَ إِلَى أَبِي قِلَابَةَ فَقَالَ مَا تَقُولُ قَالَ رُدَّ عَلَى الْغُلَامِ أَرْضَهُ قَالَ إِذًا يَهْلِكُ مَالُنَا قَالَ أَنْتَ أَهْلَكْتَهُ

عکرمہ جو کہ دمشق کے ایک بزرگ ہیں بیان کرتے ہیں میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھا اس وقت ان کے پاس سلیمان بن حبیب اور ابوقلابہ بھی موجود تھے ایک لڑکا وہاں آیا اور بولا ہماری زمین فلاں جگہ پر ہے جسے وصی نے آپ کو فروخت کردیا تھا ہم اس وقت بچے تھے راوی بیان کرتے ہیں سلیمان بن حبیب نے میری طرف متوجہ ہو کر دریافت کیا آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیتے ہوئے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے ابوقلابہ کی طرف توجہ کی اور ان سے دریافت کیا آپ کیا کہتے ہیں انہوں نے فرمایا اس غلام کو اس کی زمین واپس کردو تو وہ بولے اس صورت میں ہمارا مال ہلاک ہوجائے گا تو ابوقلابہ بولے آپ نے خود اسے ہلاک کیا ہے۔

-

Permalink