TrueHadith

اپنے پسندیدہ آدمی کے واسطے اپنی لڑکی کو نکاح کے واسطے پیش کرنا

Sunan An-Nasa'iHadith 3196

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ حُذَافَةَ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَةَ فَقَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِکَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِيتُهُ فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْکَحْتُکَ حَفْصَةَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَکُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَی عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْکَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ لَعَلَّکَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْکَ شَيْئًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْکَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُهَا وَلَمْ أَکُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَکَهَا نَکَحْتُهَا

اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا صاحبزادی حضرت عمر اپنے شوہر خنیس بن خذافہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو گئیں۔ یہ صحابی غزوہ بدر میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔ ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میری ملاقات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوگئی تو میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کے واسطے پیش کیا اور کہا کہ اگر آپ کا دل چاہے تو میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں پیش کر سکتا ہوں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ میں اس مسئلہ پر غور کروں گا پھر کچھ دن کے بعد میں نے دوسری مرتبہ ان سے ملاقات کی تو وہ فرمانے لگے کہ میں ان دونوں کا نکاح نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے بعد میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ اگر آپ کا دل چاہے تو میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں پیش کر دوں لیکن انہوں نے کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے مجھ کو حضرت عثمان کی گفتگو سے بھی زیادہ تکلیف ہوئی پھر چند دن کے بعد حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے واسطے نکاح کا رشتہ بھیجا تو میں نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں دے دیا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملاقات کی اور فرمایا ہو سکتا ہے کہ جس وقت میں نے آپ کو کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا تو آپ کو تکلیف پہنچی ہو گی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا اس کے علاوہ دوسری وجہ نہیں ہے کہ میں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا تذکرہ فرماتے ہوئے سنا تھا اور میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز نہیں ظاہر کر سکتا چنانچہ اگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے نکاح نہ فرماتے تو میں ان سے نکاح کر لیتا۔

Thabit Al-BunanI said: “I was with Anas bin Malik and a daughter of his was with him. He said: ‘A woman came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and offered herself in marriage to him. She said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, do you want to marry me?” (Sahih).

Permalink